طاقت ور

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - زور آفرر، توانا، برتر کار کردگی کی صلاحیت رکھنے والا۔ "وہ اتنا چھوٹا ہو گا کہ آپ طاقتور خوردبین کی مدد سے بھی اسے نہ دیکھ سکیں گے۔"      ( ١٩٦٨ء، نیا افق نئی منزل، ٢٥ ) ٢ - مضبوط، مستحکم۔ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے . اس ملک کو متحد اور طاقتور کر دیا جو خون خرابے کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائلِ پاکستان، ١٣٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'طاقت' کے ساتھ 'ور' بطور لاحقۂ صفت لگانے سے مرکب 'طاقت ور' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٩٤٧ء کو "آخری چٹان" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - زور آفرر، توانا، برتر کار کردگی کی صلاحیت رکھنے والا۔ "وہ اتنا چھوٹا ہو گا کہ آپ طاقتور خوردبین کی مدد سے بھی اسے نہ دیکھ سکیں گے۔"      ( ١٩٦٨ء، نیا افق نئی منزل، ٢٥ ) ٢ - مضبوط، مستحکم۔ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے . اس ملک کو متحد اور طاقتور کر دیا جو خون خرابے کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔"      ( ١٩٨٤ء، مقاصد و مسائلِ پاکستان، ١٣٢ )